| یہ شہرِ دل ہے یہاں کچھ بھی پائدار نہیں |
| جو آج اپنا ہے کل اس کا اعتبار نہیں |
| چراغِ شب کو ہوا سے بچا کے کیا حاصل |
| اگر دلوں میں ذرا روشنی کا پیار نہیں |
| ہم اپنے زخم چھپاتے رہے زمانے سے |
| یہ بات اب تو کسی راز میں شمار نہیں |
| وہ ایک شخص جو خاموش رہ کے جیتا ہے |
| اسی کے لہجے میں دنیا کا اضطرار نہیں |
| میں اپنے آپ سے نکلا تو یہ خبر آئی |
| ہے راستہ تو بہت کم مگر غبار نہیں |
| جو ٹوٹ کر بھی زمانے کو جوڑ دیتا ہے |
| اس آدمی سے بڑا کوئی شاہکار نہیں |
| یہ کس مقام پہ لے آئی زندگی ہم کو |
| ہے عشق قید وہ جس کی کوئی دیوار نہیں |
| وہ لوگ جن کو سمجھتے تھے ہم زمانے کا |
| وہ اپنے آپ سے آگے کے شہسوار نہیں |
| میں ڈوب کر بھی زمانے سے بچ کے آ نکلا |
| مرے وجود میں اب کوئی انتشار نہیں |
| جو حق کی بات سرِ دار کہہ سکے طارق |
| وہ شخص وقت کی آنکھوں میں خاکسار نہیں |
معلومات