رستے میں الوداع کہا، رہ بدل گئے
کچھ خاص لوگ چھوڑ کے دنیا، نکل گئے
آوارہ گھومتے تھے وہ اس دل کے دشت میں
جب داعیِ اجل نے بجایا بِگل، گئے
یوں آسماں پہ ڈھونڈتا رہتا ہوں ان کو میں
گویا یہاں سے جا کے ستاروں میں ڈھل گئے
ان کے بنا تو زیست کے سونے ہیں راستے
منزل کو اپنی وہ تو اکیلے نکل گئے
آواز ان کی آج بھی یادوں کے کان میں
کہتی ہے کیسے بعد ہمارے، سنبھل گئے
کل شب کسی خیال میں آئے وہ اس طرح
چشمے ہماری آنکھ کے گویا اُبل گئے
محفل میں دوستوں کی انہیں یاد جب کیا
آنکھیں چھلک پڑیں تو کبھی دل مچل گئے

0
5