| دکھوں سے چور دل کو کیا سفر کا حوصلہ ملے |
| قدم بڑھاؤں میں مگر کوئی تو ہم نوا ملے |
| محال سانس ہے مجھے کہیں سے تو ہوا ملے |
| میں درد کی دوا کروں جو درد کا پتہ ملے |
| تجھے میں آسمان پر چمکتا دیکھتا رہوں |
| اداس ہوتا ہوں جو تو اداس سا ہوا ملے |
| تجھے جو دیکھ لوں میں درد میں یوں بے قرار تو |
| نہ کوئی پھول پھر جہان میں کھلا ہوا ملے |
| تری مہک کو یہ فضا ترس گئی ہے یار اب |
| مری دعا ہے ایک دن تو ایک دم سے آ ملے |
معلومات