عشق میں حد سے گزرنا چاہے
وہ مرے دل میں ٹھہرنا چاہے
ترکِ الفت کا ارادہ بھی کرے
پھر ان آنکھوں میں سنورنا چاہے
خوفِ رسوائی ستاتا ہے اسے
عہدِ الفت سے مکرنا چاہے
منہ سے کہتی ہے کہ نفرت ہے مجھے
دل مگر مجھ پہ ہی مرنا چاہے
مجھ سے وحشت ہے تو پھر آخر کیوں
میری بانہوں میں بکھرنا چاہے
وہ نجانے یہ جدائی کا کھیل
مجھ سے کیوں جان کے ہرنا چاہے
ایک عالم ہے مخالف اور وہ
پھر بھی دم پیار کا بھرنا چاہے
دل میں طوفان بپا ہے پر وہ
دل کے دریا میں اترنا چاہے
عادل ریاض کینیڈین

0
3