| تلاشِ رزق میں چہرہ یہاں نہیں ملتا |
| جو مل بھی جائے تو وہ مہرباں نہیں ملتا |
| عجیب خبط میں بستی کے لوگ رہتے ہیں |
| کوئی بھی اپنے ہی قد کا جواں نہیں ملتا |
| کوئی مسیح تو کوئی بتوں کا شیدائی |
| مگر کسی میں بھی اب انساں جو نہیں ملتا |
| بنا لیا ہے فصیلوں میں قید ہر دل کو |
| پرندے اڑتے ہیں لیکن سماں نہیں ملتا |
| وہ پیاس ایسی کہ دریا بھی اب سراب لگے |
| بھٹکتے پھرتے ہیں پر کارواں نہیں ملتا |
| ہزاروں چاند ستارے ہیں میری مٹھی میں |
| انہیں تو ٹوٹا ہوا آشیاں نہیں ملتا |
| کسی کو حرص وفا نے گنوا دیا عادل |
| کسی کو عشق میں بھی آسماں نہیں ملتا |
معلومات