تختِ شاہی پلید رکھا ہو
حق کا رتبہ شدید رکھا ہو
بستیاں بھوک سے بلکتی ہوں
اور محل میں کلید رکھا ہو
جس کے ہاتھوں میں طوقِ شاہی ہو
اس نے خود کو یزید رکھا ہو
جس کا رستہ ہو تیرگی کا سفر
نام اس کا نوید رکھا ہو
کون سچ کی گواہی دے گا یہاں
جب زبانوں پہ بید رکھا ہو
آستینوں میں سانپ پلے ہوں
دل میں بغضِ شدید رکھا ہو
بات کیسے بنے گی غیرت کی
دل جو اپنا بے دید رکھا ہو

0
4