ہوا کے سنگ بادل بھی رواں ہے
کبھی ساگر، کبھی جوشِ نہاں ہے
بہار آئی تو کلیوں میں تبسم
خزاں چھائی تو اشکوں کا سماں ہے
سمندر کی روانی میں تلاطم
مگر ساحل سدا غم کا نشاں ہے
ہوا کے سنگ اڑتے ہیں پرندے
شجر خاموش، سایہ بے زباں ہے
سحر میں نور بکھرا آسماں پر
مگر یہ شام پھر بھی بے کراں ہے
یہ سبزہ زار، جنگل اور ندیاں
زمیں پر جنتوں کا اک گماں ہے
یہ پھولوں پر سحر کا شبنمی گیت
کبھی آنسو، کبھی سوزِ نہاں ہے
کہیں دریا بہا لے جا رہا ہے
کہیں صحرا میں رستہ بے نشاں ہے
یہ جگنو رات کے ماتھے کا جھومر
اندھیرے میں چراغِ کارواں ہے
نسیمِ صبح پیغامِ سحر ہے
چمن میں ہر کلی اب ضوفشاں ہے
چمک اُٹھتی ہے بارش کی ہر اک بوند
کہ جیسے آسماں کا یہ بیاں ہے
خوشی کی دھوپ ہو یا غم کا بادل
یہ خالد کی غزل کا اک جہاں ہے

0
8