غزل
آخرش اس کو محبت ہو گئی
شوخ سینے سے لپٹ کر سو گئی
شوخ ہنستی مسکراتی اِک نظر
دِل کے بازیچے میں اُلفت بَو گئی
چشم و لب تک ہوش میں تھا دل مگر
بات گیسو تک جو پہنچی تو گئی
آتشیں لب نے غضب بوسے لئے
با خُدا سچ مچ قیامت ہو گئی
بچپنا تھا میں تعاقب میں رہا
اِک گھنے جنگل میں تتلی کھو گئی
داستان تیرے شبستاں کی شہاب
زینتِ شعر و غزل اَب ہو گئی
شہاب احمد
۱۵ اکتوبر ۲۰۲۶
رَمل مسدس محذوف
فاعِلاتن فاعِلاتن فاعِلن

0
3