غزل
مدحِ جمالِ یار کو مدحِ خدا سمجھ
کفُرانِ لطفِ یار بڑا کُفر، نا سمجھ
لازم نہیں کہ ہونٹوں سے قول و قرار ہوں
ہنستی شریر آنکھوں نے جو کہہ دیا سمجھ
قاتل تمھارے ہاتھ بھی رشکِ عروس ہیں
خونِ جگر کے داغ کو رنگِ حنا سمجھ
دہلیز پر جو دفن ہے دل بے کفن مرا
اب تُو اُسی مزار سے اپنا پتہ سمجھ
کٹ کر جو سَر بلند ہے وہ سَر جھکا نہیں
پِندار عشق تھا یہ، نہ اِس کو اَنا سمجھ
تم سے جفا کا شکوہ کروں ٹھیک تو نہیں
میّت پہ آ گیا ہے تُو، وعدہ وفا سمجھ
زیبا نہیں ہے عشق میں معشوق سے گلا
وہ زہر بھی پلائے تو اُس کو دَوا سمجھ
مختار ہے تو روک لے ہر ظلم بے خطر
ورنہ خموش رِہ، اُسے دل سے بُرا سمجھ
وہ شخص پُرسُکون ہے، جس کو سمجھ نہیں
فرزند مطمئن ہوں میں، تُو بھی ہے نا سمجھ
پردیس میں شہاب نہ غم خوار ڈھونڈ تو
جو مسکرا کے دیکھ لے، اس کو بھلا سمجھ
شہاب احمد
۲۶ مئی ۲۰۲۶

0
3