پھر خواب کی قبا میں سجائیں یہ زندگی
مل کر چلو کہ پھر سے بھلائیں یہ زندگی
وہ دن کہ جب نگاہ میں کوئی گلہ نہ تھا
پھر سے اسی مقام پہ لائیں یہ زندگی
رنگوں کی آرزو میں جو بکھرے تھے راستے
اب اشک بن کے ہم کو رلائیں یہ زندگی
کچھ دل کو دھڑکنوں کے نئے ذائقے ملیں
یادوں کی بھیڑ سے جو نکالیں یہ زندگی
صدیوں کا فاصلہ ہے مگر ایسا لگتا ہے
اک موڑ کا ہے کھیل، صدائیں یہ زندگی
ہر نقشِ مصلحت کو مٹا کر، کتاب سے
پھر اک نئے ورق پہ سجائیں یہ زندگی
گزرے ہوئے زمانوں کی حسرت لیے ہوئے
حیرت سے تک رہی ہے جفائیں یہ زندگی

0
5