| یاد جب تِری آئے، دل میں ایک جُو آئے |
| تب کہیں زمانے میں زندگی کی خُو آئے |
| غم کے سب اندھیرے اب دور ہوں گے دنیا سے |
| سامنے ہمارے جب وہ ہی ماہِ رُو آئے |
| کیوں نہ مٹ سکیں دل سے رنج و غم زمانے کے |
| ہر طرف اجالا ہو، نُور ہی کی سُو آئے |
| دل دھڑکتا رہتا ہے اب تِری ہی الفت میں |
| یادگار بن کر جب زلفِ تیرہ مُو آئے |
| کھل گئے ہیں گلشن میں پھول سب محبت کے |
| ان کی یاد آنے سے صندلی سی بُو آئے |
معلومات