حال ایسا ہوا ہے کہ خوشی یاد نہ غم یاد
بس اس دلِ بے تاب کو ہے روۓ صنم یاد
ممکن ہے ہوا جاتا ہو دل میرا منافق
آئے کبھی مسجد تو کبھی دیر و حرم یاد
آج آکے بہت روئے وہ تربت پہ ہماری
آۓ ہیں مگر دیر سے یارو اُنھیں ہم یاد
مسحور جسے روز کریں تیری نگاہیں
پھر کیسے بھلا آئے اسے ساغرِ جم یاد
​کٹتی ہے ترے ہجر میں کچھ ایسے شبِ غم
آتا نہیں دنیا کا کوئی رنج و الم یاد
​مانا کہ یہ دوری بھی تغافل کا سبب ہے
لیکن تقیؔ قصداً ہی کرے ہے مجھے کم یاد

5
27
بہت خوب

0
آپ کی پسندیدگی کا شکریہ سرجی

سبحان اللہ

بڑی نوازش

بہت خوب

0