جدھر دیکھئے بسکہ جنگ آزمائیں
تماشائے اہلِ تفنگ آزمائیں
یہ شب کی سیاہی مقدر نہیں ہے
چلو اس بہ کرنوں کا رنگ آزمائیں
اندھیرا کہاں تک طوالت ہے کھینچے
نئی اک سحر کی امنگ آزمائیں
بہت دیر سے سو رہا ہے یہ دریا
روانی کی تازہ ترنگ آزمائیں
بہت درد دیتا ہے کانٹوں کا بستر
کسی فصلِ گُل کا پلنگ آزمائیں
ٹھہر سا گیا کیوں ہے زخموں کا رِسنا
نئے ڈھنگ سے انگ انگ آزمائیں
یہ شیدا ہے اپنے زمانے کا مجنون
چلو سنگ بازو کہ سنگ آزمائیں

0
1