| وراثت میں مجھ کو ملا لفظ کاش |
| قبیلہ ہے یعنی مرا غم تراش |
| ۔ |
| تری عشقِ بے مہر کو ہے تلاش |
| دلِ کج ادا رہیو ہشیار باش |
| ۔ |
| ہوا اس ہنر سے وہ خنجر بہ دست |
| گئی جاں ، نہ چھوڑے نشان و خراش |
| ۔ |
| مجھے میرا فردا دکھایا گیا |
| کسی کے لبِ بام تھی میری لاش |
| ۔ |
| نہ فرصت ہے کارِ جنوں سے تجھے |
| نہ ہی مجھ کو چھوڑے ہے فکر معاش |
| ۔ |
| ہوئے ایک تصویر کے کتنے عکس |
| جب آئینۂ دل ہوا پاش پاش |
| ۔ |
| مدثر سمجھ سے پرے ہے یہ روگ |
| بہ حالِ سکوں بھی رہے ارتعاش |
معلومات