| در و دیوار بیچ ڈالے ہیں |
| سبھی اوزار بیچ ڈالے ہیں |
| بھوک سینے کی مٹ نہیں پائی |
| میں نے اشعار بیچ ڈالے ہیں |
| لفظ منہ سے اتر گئے سارے |
| سچ کے افکار بیچ ڈالے ہیں |
| اپنی غیرت کو خاک پر رکھ کر |
| اپنے اقدار بیچ ڈالے ہیں |
| میں نے اک داستاں خریدی تھی |
| سارے کردار بیچ ڈالے ہیں |
| جن میں دربار کی خوشامد تھی |
| وہی اخبار بیچ ڈالے ہیں |
| محمد اویس قرنی |
معلومات