ہمارا اوڑھنا ہو یا بچھونا، شاعری ہے
یہ اٹھنا بیٹھنا اپنا یہ سونا شاعری ہے
ہماری زندگی جتنی بھی اب باقی بچی ہے
ہمارا مسکرانا اور رونا شاعری ہے
ضرورت ہی نہیں، شکوہ شکایت کیوں کریں ہم
دلِ مغموم کو اشکوں سے دھونا شاعری ہے
جدائی کا گلہ دنیا سے کر کے کیا ملے گا
غمِ ہجراں کو لفظوں میں پرونا شاعری ہے
بہت غم ہیں زمانے میں نظر جس سمت ڈالو
انھیں گیتوں کی بحروں میں سمونا شاعری ہے
نہیں ہے بے قراری ہجر میں بھی اب تو دیکھو
بہل جاتا ہے دل، اس کا کھلونا شاعری ہے
تمنا آرزو چاہت سدا آباد رکھنا
قلم کی پیٹھ پر خوابوں کو ڈھونا شاعری ہے

0
1