| عروجِ نبی جو خدا سے بیاں ہے |
| قدم مصطفیٰ کا سرِ لا مکاں ہے |
| تھما کُل زمانہ گراں دنگ ہستی |
| کھلے کیسے سب پر جو رازِ نہاں ہے |
| نبی کا سفر تھا سوئے قصرِ یزداں |
| بساطِ خرد سے پَرے جو جہاں ہے |
| رُکی سدرہ پر تھی وہ مخلوق نوری |
| سواری نبی کی ورائے گماں ہے |
| نبی دیکھیں میرے جو قوسین میں ہیں |
| یہ قربِ خدا کی عجب داستاں ہے |
| وہ راز و نیاز و دنیٰ میں رسائی |
| دکھایا خدا نے جہاں جو وہاں ہے |
| چھپے بھید ربی تھے اوحیٰ میں گہرے |
| ہوا جن سے قلزم عطا کا رواں ہے |
| گراں تحفے لائے خدا سے حبیبی |
| سلامی وہاں سے جو امت یہاں ہے |
| اے محمود دلبر حبیبِ خدا ہیں |
| حقیقت میں جن کا خدا رازداں ہے |
معلومات