عروجِ نبی جو خدا سے بیاں ہے
قدم مصطفیٰ کا سرِ لا مکاں ہے
تھما کُل زمانہ گراں دنگ ہستی
کھلے کیسے سب پر جو رازِ نہاں ہے
نبی کا سفر تھا سوئے قصرِ یزداں
بساطِ خرد سے پَرے جو جہاں ہے
رُکی سدرہ پر تھی وہ مخلوق نوری
سواری نبی کی ورائے گماں ہے
نبی دیکھیں میرے جو قوسین میں ہیں
یہ قربِ خدا کی عجب داستاں ہے
وہ راز و نیاز و دنیٰ میں رسائی
دکھایا خدا نے جہاں جو وہاں ہے
چھپے بھید ربی تھے اوحیٰ میں گہرے
ہوا جن سے قلزم عطا کا رواں ہے
گراں تحفے لائے خدا سے حبیبی
سلامی وہاں سے جو امت یہاں ہے
اے محمود دلبر حبیبِ خدا ہیں
حقیقت میں جن کا خدا رازداں ہے

1
5
مجموعی تنقیدی نتیجہ
یہ نعت
قرآن و صحیح حدیث سے ہم آہنگ ہے
شعری استعارہ کو عقیدے میں نہیں بدلا گیا
کہیں بھی حضور ﷺ کو الوہیت کا درجہ نہیں دیا گیا
معراج کی تعبیر باوقار اور محتاط ہے
یہ ایک علمی، متوازن اور معیاری نعت ہے۔

0