سامنے پا کے بھی آنکھوں میں حیا رکھّی ہے
عشق نے دل میں مقدّم جو وفا رکھی ہے
باوضو ہو کے گئے رند سبھی مسجد کو
مے کدے والوں نے واعظ کو پلا رکھی ہے
سبز پتّوں کو خزاؤں نے کیا پہلے زرد
“پھر وہی شاخ ہواؤں نے ہلا رکھی ہے”
دل کے زخموں کو زمانے سے چھپانے کے لیے
ہم نے ہونٹوں پہ ہنسی آج سجا رکھی ہے
جس کو دنیا نے شقی دل کا سمجھ رکھا تھا
اس نے آنکھوں میں محبت بھی چھپا رکھی ہے
ہم نے مانا کہ اندھیروں کا زمانہ ہے مگر
دل نے اک شمع ابھی تک تو جلا رکھی ہے
جس کو منزل کی طلب تھی وہ کہاں جا پہنچا
اُس نے دنیا کی طلب دل سے مٹا رکھی ہے
اپنے حُجرے کا چراغ اوروں کے گھر رکھ آئے
ہم نے یہ رسمِ محبت بھی نبھا رکھی ہے
زخم گہرے ہیں مگر شکوہ نہیں ہے لب پر
ہم نے تقدیر سے کچھ بات بنا رکھی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ خاموش ہے طارق لیکن
اس نے سینے میں غزل ایک سجا رکھی ہے

0
2