1۔ [ضبطِ نفس]
اگرچہ وہ تلخ آفریں ہے، تو تلخیِ ایّام سے بچ
وہ سختی اگر کلام میں لائے، تو سخت کلام سے بچ
۲۔ [حذر از عناد]
وہ ضدی ہے، اپنی ضد پہ اڑا ہے، تو اپنی ضد کو چھوڑ دے
وہ خود ہی بکھر جائے گا اک دن، تو اس کے انجام سے بچ
۳۔ [پاکیزگیِ شوق]
اک جھلک اس کے آنچل تلے، سندر مکھ کی دیکھی جو
حدّتِ دُھوپ میں جی رہا ہے، تو لذتِ حرام سے بچ
۴۔ [فریبِ حُسن]
چاند نکلا ہے، نُوری ردا ہے، چمک بکھری زمین پہ
چہرہ غرور میں ہے گُم، میاں! نظرِ خام سے بچ
۵۔ [صدقِ وفا]
وہ جو دھوکہ کرے بار بار، رُوح کو زخم دیتا ہے
عشق اگر سچا ہے تیرا، تو جھوٹ کے ہر الزام سے بچ
۶۔ [دو رنگی سے گریز]
دوستیوں میں وفا نہ ہو، تو رشتے ہوا کی طرح ہیں
اہلِ صفا کے قریب رہ، دو رُخیوں کے دام سے بچ
۷۔ [جُہدِ مسلسل]
زندگی اب گمنام نہیں، عمل ہی تری پہچان ہے
وقتِ رواں ہے، چوٹ نہ کھا، چلتے رہو، قیام سے بچ
۸۔ [مشقِ صبر]
میری جاں! باتیں اور بہت، پر سُننا چاہو کبھی اگر
صبر کرو، لب سی رکھو، خواہش کی حسرتِ جام سے بچ
۹۔ [عجز و انکسار]
نہ میں سوداگرِ دل ہوں، نہ چاہتا ہوں یہ کاروبار
خاکی! ہو شہرتِ عام اگر، تو اپنی قدرِ عام سے بچ

0