تم اپنی محبت سے جب چاہو مکر جانا
دل چاہے تو رک جانا نہ چاہے گزر جانا
اک عمر گزاری ہے تم دے نہ سکے کچھ بھی
جاتے ہوئے سر پر تم الزام ہی دھر جانا
اب دل سے اترنے میں کچھ دیر نہیں لگتی
احسان یہ کر جانا چپکے سے اتر جانا
ہم خانہ بدوشوں کی منزل ہے نہ راہی ہے
تم فکر مری چھوڑو بس لوٹ کے گھر جانا
تھا کانچ سا نازک دل پتھر کا صنم اپنا
اپنے تو مقدر میں لکھا تھا بکھر جانا
ہم درد کے ماروں کا اتنا سا ہے افسانا
اک پلک جھپکنے میں اک عمر گزر جانا
عادت ہی نہ تھی اپنی اے کاش پلٹ جاتے
ناں راس ہمیں آیا یاں آکے ٹھہر جانا
نادان بہت تھے ہم آسان سمجھتے تھے
اب آ کے محبت کو بس ایک بھنور جانا
یہ زندگی اب آ کے شاہدؔ کو سمجھ آئی
دکھ لمبے سمے سہہ کر آخر میں ہے مر جانا

0
3