| ہوا میں رقصِ نشیمن ہے اور فضا خاموش |
| سفر ادھورا ہے اپنا، کوئی ردا خاموش |
| بکھر رہے ہیں مرے گھر کے سارے نقشِ قدم |
| یہ کس کے خوف سے ہے آج ہر صدا خاموش |
| زمینِ پاک پہ کٹتے ہیں اب تو اپنوں کے سر |
| یہ کیسی آگ لگی ہے کہ ہے خدا خاموش |
| جو شہرِ جان میں جلائے تھے وہ اپنے چراغ |
| وہ بجھ رہے ہیں سرِ راہ ہے ہوا خاموش |
| عجب یہ دورِ ستم ہے کہ بے گناہوں پر |
| زبانِ تیغ کھلی ہے، ہے رہنما خاموش |
معلومات