دل میں جب سے آ بسا ہے تیری چاہت کا شعور
ہر گھڑی رہتا ہے طاری، اب مری جاں پر سرور
​کیمیا گر عشقِ حق ہے، دل کی دنیا کے لیے
سنگِ دل کو یہ تراشے، لعل کر دے گا ضرور
​شوق دیدارِ الٰہی نے کیا تھا بے قرار
عشق ہی لے کر چلا موسیٰ کو سوئے کوہِ طور
​عشق ہی منصور کو لے کر گیا تھا دار پر
حق انا الحق لب پہ آیا، عشق کا تھا سب قصور
​چشمِ باطن جب کھلی تو، ہر جگہ پایا اسے
قلبِ مومن میں ہوا ہے، حق تعالیٰ کا ظہور
​سیکھ لے انسان گر سچی وفا کی بندگی
عاجزی دل میں بسے تو، مٹ سکے سارا غرور
​مٹ ہی جائے گی شبِ غم کی یہ ساری تیرگی
راہِ منزل کی ملے تو، مٹ سکے سارا فتور
​ذکرِ محبوبِ حقیقی سے منور ہو جو قلب
عشق کی شدت بڑھے تو، رخ پہ پھر آ جائے نور
​مٹ گئی ہے ذات اس کی، یار کی چاہت میں آج
شادؔ کو راہِ وفا میں، مل گیا حق کا حضور

0
2