کیا کہیں ہم دنیا کا جو حال ہے
بس سکوں کا شہر اک بھوپال ہے
ہر سو بے فکری فضا میں قہقہے
جاگتا ہر چوک، ہر چوپال ہے
ہے ادب کی خوشبو صبح و شام میں
حسن سے قدرت کے مالامال ہے
امن کی چلتی ہوائیں ہیں یہاں
اور اک برسوں پرانا یہ تال ہے
اس کے لہجے کی جہاں میں دھوم ہے
شہر یہ لاثانی، یہ بھوپال ہے
ایک ہی تہذیب، پہچانو ذرا
کون اکبر، کون یاں گوپال ہے
اے خدا ،نفرت سے تو، اس کو بچا
اس جہاں میں ایک ہی بھوپال ہے

0
47