جب سامنے منظر میں دربارِ نبی آیا
اے کاش سنوں سب سے سرشارِ نبی آیا
اس نور کی بستی میں غم بھولیں گے ہم سارے
گم ہوں گے مدینے میں جب دارِ نبی آیا
منشا ہے کہیں سارے سرکار کے کوچے میں
یہ دیکھیں لرزتا ہے بیمارِ نبی آیا
قربان یہ دل ہو گا سرکار کی عترت پر
جب خوشبو بتائے گی گھر بارِ نبی آیا
جب شہرِ مدینہ کی میں خاک میں آؤں گا
اس روز میں دیکھوں گا گلزارِ نبی آیا
رحمت کے عوض دوں گا میں اپنے گناہوں کو
جب حشر میں پکڑا میں بازارِ نبی آیا
یہ شہر حسیں اتنا سرکار کے قدموں سے
نازاں ہیں مدینے میں غمخوار نبی آیا
جب طیبہ آئیں گے سرکار کی حب والے
محمود سنے ٹولہ انصارِ نبی آیا

0
1