| ان کے وہ خد و خال، ہمیں بھولتے نہیں |
| وہ پیکرِ جمال، ہمیں بھولتے نہیں |
| ان پر گماں گزرتا تھا ہم کو گلاب کا |
| لب تھے مہکتے، لعل ہمیں بھولتے نہیں |
| پگڈنڈیوں پہ گاؤں کی، بیتے جو ان کے ساتھ |
| قربت کے ماہ و سال، ہمیں بھولتے نہیں |
| کانوں میں ان کی گفتگو اب تک ہے گونجتی |
| بچگانہ سے سوال، ہمیں بھولتے نہیں |
| ان کے بنا گزاریں کئی برف باریاں |
| سردی سے سرخ گال، ہمیں بولتے نہیں |
| جو الوداع وقت تھے آنکھوں میں شکوے سے |
| وہ حزن، وہ ملال، ہمیں بھولتے نہیں |
| اک لطف بھی تھا ہجر میں صدمے کے ساتھ ساتھ |
| یہ عشق کے کمال، ہمیں بھولتے نہیں |
| گو جنگ ختم ہو گئی لیکن جو مر گئے |
| تھے ماؤں کے وہ لال، ہمیں بھولتے نہیں |
معلومات