دریچے ، کھڑکیاں، در بولتے ہیں
ترے عاشق برابر بولتے ہیں
پیاسے دشت کے خاموش قصے
ہمارے ہی سمندر بولتے ہیں
سماعت کے دریچے کھولتے ہیں
مری آواز کے پر بولتے ہیں
تڑپ اٹھتی ہیں مقتل کی فضائیں
یہاں نیزوں پہ جب سر بولتے ہیں
مکمل آرزوئے وصل ہونا !
مقفل کِن کے زیور بولتے ہیں
بکھرتی کروٹوں کی داستانیں
شبِ ہجراں کے بستر بولتے ہیں
تمہارا نام لے کر آج کل لوگ
علی شؔیدا کو کافر بولتے ہیں

0
3