| ہمیشہ سے دل میں یہی آرزو ہے |
| نظر دیکھے جلوہ حسیں روبرو ہے |
| وظیفہ میں چاہوں درودِ نبی ہو |
| سجائے جو لب کو یہ ہی گفتگو ہے |
| خدا سے نبی پر درود آئیں دائم |
| کہ خلقِ خدا میں نبی خوبرو ہے |
| بنیں یادیں اُن کی سکونِ دروں اب |
| سدا من یہ چاہے یہ ہی جستجو ہے |
| زباں پر سدا ہوں قصیدے نبی کے |
| اسی مِیں میں دیکھوں یہ دل مستبو ہے |
| ہوائے مدینہ رہے جاں فزا تو |
| عطا تجھ کو عطرِ نبی کی جو بو ہے |
| ورودِ نبی سے ہے تاباں مدینہ |
| حسیں ہے سہانا نبی کا جو کو ہے |
| خدایا مجھے وہ بصیرت عطا کر |
| کہوں بات حق میں نہ سمجھیں غلو ہے |
| گلی دلربا کی اے مولا دکھا دے |
| یہ محمود کے دل میں اک آرزو ہے |
معلومات