ہمیشہ سے دل میں یہی آرزو ہے
نظر دیکھے جلوہ حسیں روبرو ہے
وظیفہ میں چاہوں درودِ نبی ہو
سجائے جو لب کو یہ ہی گفتگو ہے
خدا سے نبی پر درود آئیں دائم
کہ خلقِ خدا میں نبی خوبرو ہے
بنیں یادیں اُن کی سکونِ دروں اب
سدا من یہ چاہے یہ ہی جستجو ہے
زباں پر سدا ہوں قصیدے نبی کے
اسی مِیں میں دیکھوں یہ دل مستبو ہے
ہوائے مدینہ رہے جاں فزا تو
عطا تجھ کو عطرِ نبی کی جو بو ہے
ورودِ نبی سے ہے تاباں مدینہ
حسیں ہے سہانا نبی کا جو کو ہے
خدایا مجھے وہ بصیرت عطا کر
کہوں بات حق میں نہ سمجھیں غلو ہے
گلی دلربا کی اے مولا دکھا دے
یہ محمود کے دل میں اک آرزو ہے

1
2
یہ نعت رسولِ اکرم ﷺ سے قلبی محبت اور دیدار کی آرزو کا اظہار ہے۔ شاعر کی خواہش ہے کہ اس کی نگاہیں جمالِ نبوی ﷺ سے منور ہوں اور اس کی زبان پر ہمیشہ درودِ شریف جاری رہے، کیونکہ درود وہ ذکر ہے جسے خود اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے ادا کرتے ہیں (الاحزاب: 56)۔

نبی کریم ﷺ کی یاد کو شاعر دل کے سکون اور ایمان کی تازگی کا ذریعہ قرار دیتا ہے، کیونکہ دلوں کا اطمینان اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ذکر ہی میں ہے (الرعد: 28)۔ مدینہ منورہ کی فضا کو جان بخش اس لیے کہا گیا ہے کہ وہ رسول ﷺ کی نسبت سے معطر ہے، اور مدینہ کا حسن آپ ﷺ کی تشریف آوری ہی سے قائم ہے، کیونکہ آپ ﷺ سراسر رحمت ہیں (الانبیاء: 107)۔

شاعر نہایت ادب کے ساتھ اللہ سے بصیرت کی دعا کرتا ہے تاکہ وہ نبی ﷺ کی عظمت بیان کرتے ہوئے غلو میں مبتلا نہ ہو، جیسا کہ خود رسول ﷺ نے غلو سے منع فرمایا (صحیح بخاری)۔ آخر میں وہ مدینہ کی گلیوں کی زیارت کی تمنا کرتا ہے، جو ہر عاشقِ رسول ﷺ کے دل کی گہری خواہش ہے اور قربِ نبوی ﷺ کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

0