| کوئی موسم ہو، اترتا ہے نظر میں وہ شخص |
| جیسے سورج کی کرن کھیلے سحر میں وہ شخص |
| جس کو سوچا بھی تو کانٹے سے چبھے یاد اس کی |
| کتنا پیارا ہے، مگر ڈوبا ہے ڈر میں وہ شخص |
| میں نے سوچا تھا کہ اب ترکِ تعلق کر لوں |
| پھر پکارے گا مجھے راہِ گزر میں وہ شخص |
| کتنے سحروں کی مسافت کا صلہ ہے یہ بھی |
| آج بھی بیٹھا ہے اب بھی تو نگر میں وہ شخص |
| جس کی خوشبو سے مہک اٹھتی ہیں یادیں دل کی |
| اک عجب رنگ بکھرتا ہے جگر میں وہ شخص |
| ایک مدت سے جو بچھڑا ہے مگر لگتا ہے |
| جیسے موجود ہو اب بھی مرے گھر میں وہ شخص |
| جس کے آنے سے بدل جاتی ہے قسمت دل کی |
| روشنی بن کے چمکتا ہے سفر میں وہ شخص |
| میں بدل جاؤں تو دنیا کو تعجب کیوں ہو |
| ان دنوں رہتا ہے میری ہی نظر میں وہ شخص |
| ڈوب جاتے ہیں سبھی نقش زمانے کے مگر |
| نقش رہتا ہے سدا لوحِ اثر میں وہ شخص |
معلومات