| اس گلشنِ وطن کا بہت مجھ پہ قرض ہے |
| میں تو کروں گا اس سے وفا مجھ پہ فرض ہے |
| دشمن ہوا ہے آج زمانہ تو کیا ہوا |
| زنداں میں آج کل ہے ٹھکانہ تو کیا ہوا |
| ملت کا رنج خوار ہوں غدار تو نہیں |
| قیدی ہوں بے گناہ خطا کار تو نہیں |
| دیکھے ہیں دن یہ میں نے ضعیفی میں یا خدا |
| دشمن چھپے ہوئے تھے مرے دوستوں میں کیا |
| نفرت کا تھا غبار جہاں تک نظر گئی |
| مجھ پر منافقوں کی حقیقت ابھی کھلی |
معلومات