اک نُور اُٹھا خیرہ کرے عرش کو، فرش بھی سجنے والا ہے
تیرا ذِکر تو خالقِ برحق، ازل سے ابد تک رہنے والا ہے
رحمت ہی بنی ہے ہر سو اب، وہ اُمّی لقب والا آقاؐ
جلوۂ مہ و خورشید لیے، اِس دِل پہ اُترنے والا ہے
والضحیٰ کا روشن چہرہ ہے، طٰہٰ کا سہرا چمکایا
محبوبِ خدا تشریف لائے ہیں، باطل مٹنے والا ہے
کوثر کی عطا بھی ملتی ہے، ساقیِ محشر ہیں میرے آقاؐ
ہر سمت ہے اب زرخیزی ہی، سبزہ بھی اُگنے والا ہے
نورُ الہدیٰ, خیرُ الوریٰ، احمدِ مرسلؐ سرورِ دیں
اے مالکِ ارض و سما دیکھ، یہ جہاں سنورنے والا ہے
شافعِ محشر، ذکرِ محمد ﷺ، صلِّ علیٰ کی دھوم مچی
خالقِ برتر کا ہے کرم، یہ جہاں اب سجنے والا ہے
خوشبوئے طیبہ لَوٹ چلی، یہ گلشن مہکنے والا ہے
ظُلم تو اپنی حد کو پہنچا، اندھیرا ہٹنے والا ہے
حِرا کا اُجالا چمکا ہے، خیرُ الوریٰ روشن ہوئے ہیں
تاریکی اب چھٹ جائے گی، نُور کا تارہ جگنے والا ہے
خاکیؔ پہ کرم ہے آقاؐ کا، نعتوں کی ملی ہے توفیق اسے
درِ یار پہ سر کو جھکائے جو، بخت چمکنے والا ہے

0
3