​خرد کی قید سے ہم لامکاں میں اترے ہیں
بپاسِ بندگی، ہم اس جہاں میں اترے ہیں
​سنائی دیتی ہے چاہت کی اک صدا ہر سو
مکینِ دل کے لیے ہم فغاں میں اترے ہیں
​حقیقتوں کی حدوں سے گزر گئے ہیں ہم
یقین و ہوش کو بھلا کر، گماں میں اترے ہیں
​لیے خیالِ زمرد کا سلسلہ دل میں
کسی جنوں کے نئے بے کراں میں اترے ہیں
​چلے تھے ہم اسے پانے کی جستجو لے کر
کہو اے شاد! کہ ہم کس نشاں میں اترے ہیں

0
2