کھڑی جن کے پیچھے صفِ انبیا ہے
امامِ امم وہ نبی مصطفیٰ ہے
کرے گا خدا شاد اُن کو ہے وعدہ
ربِ امتی رب سے جن کی دعا ہے
سعادت ہے اُن کی شجاعت ہے اُن کی
رسولِ خدا یہ شہے دو سریٰ ہے
ہیں ختم الرسل جو نبی شانِ ہستی
خدا نے جدا اُن کو رتبہ دیا ہے
یہ ناسوت برزخ یہ عقبیٰ کے عالم
سدا اُن سے سب میں سہارا ملا ہے
گھٹا رحمتوں کی ورودِ نبی سے
نبی مصدرِ ہر تجلیٰ ضیا ہے
نہیں مثل محمود ذاتِ نبی کی
نہ دلبر حسیں سا کہیں دوسرا ہے

0
1
4
خلاصہ
ان اشعار میں حضور نبی کریم ﷺ کی:
امامتِ انبیاء
شفاعت
سیادتِ کائنات
ختمِ نبوت
رحمت للعالمین ہونا
نورانیت
بےمثال حسن و اخلاق
کا بیان ہے، اور ہر بات قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔

0