چہرے سے مصطفیٰ جب پردہ اٹھائیں گے
دیدار حسنِ رب کا سب کو کرائیں گے
عکسِ جمالِ یزداں حسنِ حبیب ہے
ظلمت میں فرقتوں کی جلوہ دکھائیں گے
عاشق خدا ہے جن کا محبوب دلربا
اُن پر درود رب سے آتے ہیں آئیں گے
مرضی تھی جیسے اُن کی رب نے بنا دیا
حسان داستاں یہ تم کو سنائیں گے
عرشِ الہ پہ آقا بھولے نہ امتی
محشر میں مومنیں کی بخشش کرائیں گے
آیا ہے حق سے بیڑا انہی کے ہاتھ میں
سرکار خیر سے جو ساحل پہ لائیں گے
محمود غم نہ کرنا آقا کریم ہیں
نارِ سموم سے جو مومن چھڑائیں گے

1
2
مختصر خلاصہ

یہ نعتِ رسولِ اکرم ﷺ میں حضور ﷺ کے جمال، محبتِ الٰہی، امت کے لیے شفقت، روزِ محشر شفاعت اور مومنین کی نجات کی امید کو عقیدت و محبت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ شاعر حضور ﷺ کو رحمت و ہدایت کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے اپنی امید اور وابستگی کا اظہار کرتا ہے۔

0