غزل برائے تنقید و اصلاح
مسائل تو پہلے بھی کچھ کم نہیں تھے
مگر ہم کو اتنے کبھی غم نہیں تھے
جرائم تو صدیوں سے ہوتے رہے ہیں
مگر اس قدر وہ منظم نہیں تھے
کبھی تو مؤرخ یہ لکھے گا آخر
کبھی بھی عوام اتنے برہم نہیں تھے
جہالت جو دیکھی یقیں آگیا پھر
یہاں جیسے بالکل معلم نہیں تھے
جنھیں ہم نے سمجھا تھا عزت کے قابل
حقیقت میں ایسے مکرم نہیں تھے
GMKHAN

0
15