| اے شافعِ محشر گلشن ہو جو دل میں فزوں ہے ویرانہ |
| یہ سینہ نور سے روشن ہو دل دار بنالیں پروانہ |
| اے جانِ جہاں اے صلے علٰی سرکار نگاہِ کرم ہو اب |
| اس در پہ کھڑا اک عاجز ہے مختار میں تیرا مستانہ |
| فاراں کے سہانے منظر ہیں اس شہر کے رستے تاباں ہیں |
| خیرات ملے اس یار سے اب میں دیوانہ ہوں دیوانہ |
| میں زینت دیکھوں جالیوں کی مجھے آئے بلاوا طیبہ کا |
| دیدار ہو روضہِ انور کا میں دیکھ سکوں یہ کاشانہ |
| سرکار ہو صدقہ عطرت کا ہوں روشن میرے بھی طالع |
| کریں فضل و کرم اے سب سے سخی اب چمکے میرا افسانہ |
| اس طیبہ کے رستہ پر مجھ کو یہ خارِ مغیلاں پھولوں سے |
| ہے منزل کعبے کے قبلے میرا مقصد جانِ جانانہ |
| تیری رحمت کے جو قلزم ہیں ہر آن یہ جوش میں رہتے ہیں |
| اک بوند ملے محمود کو بھی ہو کرم بھریں یہ پیمانہ |
معلومات