اے شافعِ محشر گلشن ہو جو دل میں فزوں ہے ویرانہ
یہ سینہ نور سے روشن ہو دل دار بنالیں پروانہ
اے جانِ جہاں اے صلے علٰی سرکار نگاہِ کرم ہو اب
اس در پہ کھڑا اک عاجز ہے مختار میں تیرا مستانہ
فاراں کے سہانے منظر ہیں اس شہر کے رستے تاباں ہیں
خیرات ملے اس یار سے اب میں دیوانہ ہوں دیوانہ
میں زینت دیکھوں جالیوں کی مجھے آئے بلاوا طیبہ کا
دیدار ہو روضہِ انور کا میں دیکھ سکوں یہ کاشانہ
سرکار ہو صدقہ عطرت کا ہوں روشن میرے بھی طالع
کریں فضل و کرم اے سب سے سخی اب چمکے میرا افسانہ
اس طیبہ کے رستہ پر مجھ کو یہ خارِ مغیلاں پھولوں سے
ہے منزل کعبے کے قبلے میرا مقصد جانِ جانانہ
تیری رحمت کے جو قلزم ہیں ہر آن یہ جوش میں رہتے ہیں
اک بوند ملے محمود کو بھی ہو کرم بھریں یہ پیمانہ

0
1
7
مرکزی خیال و خلاصہ:
یہ نعتِ شریف عشقِ رسول اور دیارِ مدینہ کی تڑپ کا ایک خوبصورت اور والہانہ مظہر ہے۔ مطلع میں دنیا کی ویرانی کا موازنہ طیبہ کی روشنی سے کرتے ہوئے درِ اقدس کی حاضری کا شوق ظاہر کیا گیا ہے۔ کلام میں مدینہ پاک کی سنہری جالیوں اور روضہِ انور کی زیارت کی تڑپ کے ساتھ ساتھ مکہ مکرمہ (فاراں) اور کعبہ شریف کا تذکرہ ایک عقیدت مندانہ سفر کی صورت میں کیا گیا ہے۔ نعت میں ساداتِ کرام (اہلِ بیت) کا وسیلہ پیش کرتے ہوئے مقطع میں رحمت کے سمندر سے ایک قطرے کی التجا کی گئی ہے، جو شاعر (محمودؔ) کے قلبی جذبات کی سچی عکاسی کرتا ہے۔ ادبی لحاظ سے یہ کلام روانی، فصاحت اور عروضی وزن (بحر) کے اصولوں پر پورا اترتا ہے۔

0