| مقدر سے شکایت اب نہیں کرتا |
| بس اپنوں سے محبت اب نہیں کرتا |
| میں اپنے گیت خوش ہو کر سناتا ہوں |
| ترے غم کی تلاوت اب نہیں کرتا |
| مجھے نفرت سے نفرت ہو گئی اتنی |
| کسی سے بھی میں نفرت اب نہیں کرتا |
| نصیحت کرتا رہتا تھا سبھی کو میں |
| کسی کو بھی نصیحت اب نہیں کرتا |
| میں تھا محکوم جس کا اک زمانے سے |
| مرے دل پر حکومت اب نہیں کرتا |
| مرے اپنے بہت تھوڑے بچے ہیں اب |
| میں اپنوں سے عداوت اب نہیں کرتا |
| عبادت اک خدا کی کر رہا ہوں میں |
| بتوں کی میں عبادت اب نہیں کرتا |
معلومات