مقدر سے شکایت اب نہیں کرتا
بس اپنوں سے محبت اب نہیں کرتا
میں اپنے گیت خوش ہو کر سناتا ہوں
ترے غم کی تلاوت اب نہیں کرتا
مجھے نفرت سے نفرت ہو گئی اتنی
کسی سے بھی میں نفرت اب نہیں کرتا
نصیحت کرتا رہتا تھا سبھی کو میں
کسی کو بھی نصیحت اب نہیں کرتا
میں تھا محکوم جس کا اک زمانے سے
مرے دل پر حکومت اب نہیں کرتا
مرے اپنے بہت تھوڑے بچے ہیں اب
میں اپنوں سے عداوت اب نہیں کرتا
عبادت اک خدا کی کر رہا ہوں میں
بتوں کی میں عبادت اب نہیں کرتا

0
4