خدا کے ما سوا کوئی نہ دنیا میں سہارا ہے
اسی رحمٰن کی رحمت سے مل پایا کنارہ ہے
غرض مندوں سے ہمدردی، مسافر کی اعانت ہو
خطاؤں سے خلاصی کا یہی رہتا بہانہ ہے
فنا اوروں پہ ہو، جزبے ہو دل میں خیر خواہانہ
ستم کی آنچ میں جھلسے ہو ان کا غم سمانا ہے
سدا معصوم کی آہیں ہمیں رہ رہ ستاتی ہیں
"جو ہم اخبار پڑھتے ہیں کلیجہ منہ کو آتا ہے"
اخوت کا سبق ہر حال دہراتے رہیں ناصؔر
وفا کا فرض بھی فرط مسرت سے نبھانا ہے

0
14