یاد ماضی بن کے اب یاروں کے میلے رہ گئے
زندگی کی بھیڑ میں ہم تو اکیلے رہ گئے
یاد آتی ہے وہ ثاقب کی کڑاہی آج بھی
گھومتے دل کی گلی میں آج ٹھیلے رہ گئے
یہ نگاہیں دوستوں کو دیکھتی تھیں رات دن
آنسوؤں کے اب مگر آنکھوں میں ریلے رہ گئے
شہر یادوں کا ہے اجڑا یوں تلاشِ رزق میں
ذہن کے کونوں میں تھوڑے ٹِبے ٹیلے رہ گئے
چھین لیں عمرِ رواں نے رونقیں سرمستیاں
کام کے اور کام ہی کے بس جھمیلے رہ گئے

0
10