کل تک جسے پھل جانے کی امید نہیں تھی
پھولوں سے اسی پیڑ کی ہر شاخ سجی ہے
جب ہم نے دیا خون کا نذرانہ وطن کو
تب جاکے کہیں ہم کو یہ آزادی ملی ہے

0
5