| کل تک جسے پھل جانے کی امید نہیں تھی |
| پھولوں سے اسی پیڑ کی ہر شاخ سجی ہے |
| جب ہم نے دیا خون کا نذرانہ وطن کو |
| تب جاکے کہیں ہم کو یہ آزادی ملی ہے |
| کل تک جسے پھل جانے کی امید نہیں تھی |
| پھولوں سے اسی پیڑ کی ہر شاخ سجی ہے |
| جب ہم نے دیا خون کا نذرانہ وطن کو |
| تب جاکے کہیں ہم کو یہ آزادی ملی ہے |
معلومات