اشک آنکھوں سے جو بہتے ہیں انھیں بہنے دو
قتل کر کے تو نہ ہمدرد بنو، رہنے دو
روٹی کپڑا یا مکاں ہم کو بھلا کیا دو گے
تم وہ بھوکے ہو جو مُردوں کے کفن نوچو گے
قوم کو پہلے ہی تم مار چکے ہو ظالم
مان لو عہدِ وفا ہار چکے ہو ظالم
چادریں ماؤں کے سر سے جو اتارو گے تم
اس طرح اپنا بھرم کیسے نکھارو گے تم
کتنے معصوم چڑھاؤ گے بلی پر بولو
کیا عزائم ہیں تمہارے یہ زباں تو کھولو
جا بجا فاقہ کشی ناچ رہی ہے دیکھو
حکمراں کی تو ابھی آنکھ لگی ہے دیکھو
حد سے بڑھنے لگے اب تیرے قدم اے ظالم
اب رکے گا نہیں میرا بھی قلم اے ظالم
تیرے کرتوت کروں گا میں زمانے پہ عیاں
منہ دکھانے کے بھی قابل نہ رہے گا تو یہاں

0
2