| کبھی سوچا ہے، اگر وقت پلٹ بھی جائے |
| وہی موسم، وہی رستے، وہی چہرے آئیں |
| کیا وہ حیرت بھی پلٹ آئے گی آنکھوں میں کبھی |
| جس سے معمولی سی دنیا بھی نئی لگتی تھی |
| وہ یقیں، جن پہ سوالات نہیں ہوتے تھے |
| وہ تعلق، جو فقط دل سے نبھایا ہم نے |
| لمحے ویسے ہی اگر پھر سے میسر بھی ہوں |
| کیا وہی دل بھی ہمیں پھر سے میسر ہوگا |
| ہم نے چاہا تھا بہت کچھ، سو بہت کچھ پایا |
| کتنی راہوں سے گزر کر یہاں تک آئے ہیں |
| پر وہ خواہش جو ہمیں چین سے رہنے ہی نہ دے |
| وہ کہاں ہے، وہی بے تاب تمنا ہے کہاں |
| ہم نے دنیا کو سمجھتے ہوئے خود کو کھویا |
| لوگ سمجھے بھی، تعلق بھی سمجھ میں آئے |
| یہ سمجھ ہم کو بہت کچھ تو سکھا کر گزری |
| پر کسی بات پہ پہلی سی خوشی اب نہ رہی |
| کاش ممکن ہو کسی موڑ سے پھر لوٹ سکیں |
| صرف منظر نہیں، احساس پرانے مل جائیں |
| وقت شاید ہمیں وہ دن کبھی لوٹا بھی دے |
| ہم مگر پہلے سے وہ لوگ کہاں باقی ہیں |
| اصل حسرت کسی گزرے ہوئے دن کی تو نہیں |
| کوئی موسم، کوئی رستہ بھی نہیں کھویا ہے |
| ہم جسے ڈھونڈتے پھرتے ہیں زمانے بھر میں |
| اپنی آنکھوں کی وہ پہلی سی نظر کھوئی ہے |
معلومات