| وہ جس طرف بھی سجا کر عقول آتے ہیں |
| قدم قدم پہ عقیدت کے پھول آتے ہیں |
| نکل پڑے ہیں جو سچائی کے سفر پہ یہاں |
| اُنہی کے حصے میں رَستوں کے دھول آتے ہیں |
| جھکا کے سر کو جو بیٹھے ہیں تیری چوکھٹ پر |
| دعا سے پہلے ہی اُن کو حصول آتے ہیں |
| عجیب دھن ہے تمہاری گلی میں آنے کی |
| مریضِ ہجر بھی تَن مَن جو بھول آتے ہیں |
| وہ ایک شخص کہ دَریا مِزاج ہے ایسا |
| کہ اُس کی بزم میں سب با اصول آتے ہیں |
| ہمیں خبر ہے کہ ساحل پہ کچھ نہیں ملتا |
| مگر سفینے سمندر میں کُول آتے ہیں |
| کلام کرتا ہے وہ اِس سلیقے سے عادل |
| دلوں کے زنگ مِٹانے کے رُول آتے ہیں |
معلومات