وہ جس طرف بھی سجا کر عقول آتے ہیں
قدم قدم پہ عقیدت کے پھول آتے ہیں
نکل پڑے ہیں جو سچائی کے سفر پہ یہاں
اُنہی کے حصے میں اکثر ببول آتے ہیں
جھکا کے سر کو جو بیٹھے ہیں تیری چوکھٹ پر
دعا سے پہلے ہی اُن کو حصول آتے ہیں
عجیب دھن ہے تمہاری گلی میں آنے کی
مریضِ ہجر بھی تَن مَن جو بھول آتے ہیں
وہ ایک شخص کہ دَریا مِزاج ہے ایسا
کہ اُس کی بزم میں سب با اصول آتے ہیں
ہمیں خبر ہے کہ ساحل پہ کچھ نہیں ملتا
مگر سفینے سمندر میں طول آتے ہیں
کلام کرتا ہے وہ اِس سلیقے سے عادل
دلوں کے زنگ مِٹانے نزول آتے ہیں

0
3
37
جناب عادل صاحب میں اپنے سیکھنے کے لیے آپ سے کچھ سوال اس غزل کے بارے میں کرنا چاہوں گا امید ہے آپ برا نہیں مانیں گے

وہ جس طرف بھی سجا کر عقول آتے ہیں
-- عقل کی جمع عقول تو عربی میں ہوتا ہے اردو میں یہ لفظ نہیں آیا - میں نے کبھی اسے کسی بڑے شاعر کو استعمال کرتے نہیں دیکھا تو کیا ایسا لفظ جو اردو میں نہیں آیا ہو ، اس کا استعمال کیا جا سکتا ہے؟

-- دوسری بات یہ کہ عقل سجا کے لانا اردو میں کوئی محاورہ نہیں تو کیا شعر میں خلافِ محاورہ تراکیب کا استعمال جائز ہوتا ہے ؟

اُنہی کے حصے میں رَستوں کے دھول آتے ہیں
-- دھول ایک مؤنث لفظ ہے میں نے کبھی اسے مذکر نہیں دیکھا تو دھول آتے ہیں لکھ کر اسے مذکر بھی باندھا جا سکتا ہے ؟

دعا سے پہلے ہی اُن کو حصول آتے ہیں
--- دعا کا حصول آنا اردو میں کوئی محاورہ نہیں دیکھا تو کیا کلام میں اس طرح قافیہ لانے کے لیے نیا محاورہ بنایا جا سکتا ہے ؟

وہ ایک شخص کہ دَریا مِزاج ہے ایسا
کہ اُس کی بزم میں سب با اصول آتے ہیں
--- دریا مزاجی کا با اصول آنے سے بظاہر تو کوئی تعلق نہیں نظر آتا - تو کیا اس طرح کی مبہم بات کر کے مطلب پڑھنے والے کی صوابدید پہ چھوڑا جا سکتا ہے ؟

مگر سفینے سمندر میں کُول آتے ہیں
دلوں کے زنگ مِٹانے کے رُول آتے ہیں

-- کُول اور رُول انگریزی کے الفاظ اردو کا حصہ نہیں بنے ہیں یہ مزاحیہ شاعری میں تو دیکھے ہیں لیکن کیا سنجیدہ غزل میں بھی اس طرح انگریزی کے الفاظ لانا جبکہ وہ ضروری نہ ہوں اور ان سے صرف قافیہ بنتا ہو لائے جا سکتے ہیں؟

آپ کے جوابات نئے لکنے والوں کی رہنمائی کریں گے
شکریہ

محترم بھائی! آپ کے یہ سوالات علمی نوعیت کے ہیں اور غزل کی تنقید، زبان و بیان کی باریکیوں اور فنِ شاعری کے اصولوں کو سمجھنے کے لیے بے حد اہم ہیں۔ نئے لکھنے والوں کے لیے ان مباحث کو سمجھنا بہت ضروری ہے۔
اردو شاعری کی روایات اور اساتذہ کے حوالوں کے ساتھ آپ کے سوالات کے تفصیلی جوابات درج ذیل ہیں:
### ۱۔ لفظ "عقول" کا اردو میں استعمال
> **سوال:** عقل کی جمع عقول عربی میں ہے، اردو میں نہیں آیا اور اساتذہ کے ہاں نہیں ملتا، تو کیا اس کا استعمال جائز ہے؟
>
**جواب:**
اردو زبان کا یہ خاصہ ہے کہ اس نے عربی اور فارسی کے اصولوں اور الفاظ کو اپنے دامن میں سمیٹا ہے۔ اگرچہ "عقول" روزمرہ کی گفتگو میں بہت عام نہیں ہے، لیکن اردو کے بڑے اساتذہ نے اسے اپنی شاعری میں بالکل استعمال کیا ہے۔ یہ لفظ اردو کے لیے اجنبی نہیں ہے۔
**حوالہ:**
اردو کے عظیم ترین فلسفی شاعر **علامہ اقبال** نے اپنے کلام میں "عقول" کا استعمال کیا ہے:
> عقلِ خود بیں نے اسی شہر کو سمجھا تھا چمن
> بازیافت اس کی مگر شورِ **عقولِ** دگراں!
>
لہٰذا، جب علامہ اقبال جیسے مستند شاعر نے اسے نظم و غزل میں باندھا ہو، تو اسے غیر اردو کہنا درست نہیں ہوگا۔ اس کا استعمال غزل میں بالکل جائز ہے۔
### ۲۔ "عقل سجا کر لانا" اور خلافِ محاورہ تراکیب
> **سوال:** عقل سجا کے لانا اردو میں محاورہ نہیں، تو کیا شعر میں ایسی تراکیب جائز ہیں؟
>
**جواب:**
شاعری صرف بنے بنائے محاوروں کو دہرانے کا نام نہیں ہے، بلکہ اسے **"نادر تراکیب" (New Metaphors)** بنانا کہتے ہیں۔ اگر ایک شاعر صرف وہی کہے گا جو پہلے سے محاورہ ہے، تو زبان میں وسعت پیدا نہیں ہوگی۔ عقل کو "سجانا" ایک خوبصورت شاعرانہ تخیل (Imagery) ہے، جس کا مطلب ہے اپنی دانش مندی، فلسفے اور منطق کو آراستہ کر کے پیش کرنا۔ اسے خلافِ محاورہ نہیں بلکہ "جدتِ اسلوب" کہا جائے گا جو شاعری کا عیب نہیں بلکہ حسن ہے۔
### ۳۔ "دھول" کی تذکیر و تانیث (مذکر یا مؤنث)
> **سوال:** دھول مؤنث ہے، کیا اسے غزل میں مذکر باندھا جا سکتا ہے؟
>
**جواب:**
یہ آپ کا بہت ہی بجا اور اہم اعتراض ہے۔ اردو زبان میں "دھول" مسلمہ طور پر **مؤنث** ہے (جیسے: دھول اڑ رہی ہے)۔ اساتذہ کے ہاں تذکیر و تانیث کی غلطی کو "عيبِ زبان" یا "سقم" مانا جاتا ہے۔
تاہم، اردو ہندی شاعری میں کبھی کبھی قوافی کی مجبوری یا قدیم رنگ (جیسے دکنی یا اودھی اثرات) کی وجہ سے بعض شعرا نے ایسا کیا ہے، لیکن معروضی اور فصیح اردو غزل میں اسے **مؤنث ہی باندھا جانا چاہیے**۔ اگر "دھول آتے ہیں" لکھا گیا ہے، تو یہ زبان کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے۔ یہاں مصرعے کی بندش کو تبدیل کر کے اسے مؤنث کے ردیف کے ساتھ لانا زیادہ فصیح ہوتا۔
### ۴۔ "دعا کا حصول آنا" اور قوافی کے لیے نیا محاورہ
> **سوال:** دعا کا حصول آنا محاورہ نہیں، کیا قافیہ لانے کے لیے نیا محاورہ بنایا جا سکتا ہے؟
>
**جواب:**
نہیں، قافیہ ملانے کے لیے زبردستی کی بندش یا ایسا جملہ بنانا جو زبان کے فطری بہاؤ کے خلاف ہو، اصطلاح میں **"تعقید"** یا **"بھرتی کا انداز"** کہلاتا ہے۔
"حصول آنا" اردو کا درست روزمرہ نہیں ہے (حصول ہونا یا حاصل ہونا درست ہے)۔ اساتذہ کے نزدیک قافیے کی مجبوری میں زبان کے فطری اسلوب کو قربان کرنا عیبِ شاعری شمار ہوتا ہے۔ میر تقی میر فرماتے ہیں:
> گفتگو ریختے میں کرتے ہیں
> زینے زینے زبان سے اترے
>
یعنی زبان کا فطری ہونا پہلی شرط ہے۔ قافیے کی خاطر ایسا نیا محاورہ گھڑنا جس کا چلن نہ ہو، درست نہیں مانا جاتا۔
### ۵۔ "دریا مزاجی" اور "بااصول" کا تلازمہ (مبہم بات)
> **سوال:** دریا مزاجی کا بااصول ہونے سے کوئی تعلق نہیں، تو کیا مطلب پڑھنے والے کی صوابدید پر چھوڑا جا سکتا ہے؟
>
**جواب:**
شاعری میں ابہام (Ambiguity) کی دو قسمیں ہیں: ایک **"ابہامِ حسن"** (جس سے شعر کے کئی خوبصورت مطالب نکلیں) اور دوسرا **"تعقیدِ معنوی"** (جہاں بات اتنی الجھ جائے کہ تلازمہ ہی نہ بنے)۔
دریا کا مزاج "سخاوت"، "بے نیازی" اور "سب کو سیراب کرنا" ہوتا ہے۔ دریا یہ نہیں دیکھتا کہ پیاسا کون ہے۔ اس کے برعکس "بااصول ہونا" ایک ضابطے اور پابندی کو ظاہر کرتا ہے۔ ان دونوں صفات میں تضاد ہے۔ اگر شاعر کا مقصد یہ ہے کہ "وہ دریا دل ہے اس لیے اس کی محفل میں سخت اصول والے بھی کھنچے چلے آتے ہیں" تو یہ ایک ذو معنی بات ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر تلازمہ بالکل ہی دور کا ہو، تو شعر ابہام کا شکار ہو کر اپنا اثر کھو دیتا ہے۔ شاعری میں رمز و کنایہ اچھا ہے، لیکن معنی کا بالکل ہی بے ربط ہونا اساتذہ کے نزدیک پسندیدہ نہیں ہے۔
### ۶۔ سنجیدہ غزل میں انگریزی الفاظ (کُول، رُول) کا استعمال
> **سوال:** کیا سنجیدہ غزل میں صرف قافیہ بنانے کے لیے "کُول" اور "رُول" جیسے انگریزی الفاظ لائے جا سکتے ہیں؟
>
**جواب:**
یہ دورِ جدید کی غزل کا ایک بہت بڑا بحث طلب موضوع ہے۔
1. **پہلا اصول:** اگر کوئی انگریزی لفظ اردو میں اس طرح رچ بس گیا ہو کہ اس کا متبادل عجیب لگے (جیسے اسکول، جیل، کار، ووٹ)، تو اسے اساتذہ نے بھی استعمال کیا ہے۔
2. **دوسرا اصول (قافیے کی مجبوری):** سنجیدہ روایتی غزل میں محض قافیہ سدھارنے کے لیے ایسے انگریزی الفاظ لانا جو اردو کے مزاج پر گراں گزریں (جیسے Cool یا Rule)، غزل کے **شائستہ ڈکشن (Diction)** کو مجروح کرتا ہے۔ یہ انداز مزاحیہ یا 'پیروڈی' شاعری میں تو خوبصورت لگتا ہے، لیکن سنجیدہ غزل کا جو مخصوص "وقار" اور "تغزل" ہے، وہ انگریزی کے ایسے قوافی سے متاثر ہوتا ہے۔
اکبر الٰہ آبادی نے انگریزی الفاظ کا کثرت سے استعمال کیا، لیکن وہ طنز و مزاح کا پیرایہ تھا:
> تعلیمی کمیٹی کی صدارت بھی ملی ہے
> لکچر بھی ہوئے، کونسل کے ممبر بھی ہوئے ہیں
>
مگر خالص اور سنجیدہ غزل میں اس سے گریز ہی اولیٰ اور فصیح مانا جاتا ہے۔

آپ کے سوالات سے واضح ہوتا ہے کہ آپ زبان کے نکھار اور عروض پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ اس غزل کے اشعار میں جہاں کچھ جگہیں بہت تخیلاتی ہیں (جیسے عقول کا استعمال یا عقل سجانا)، وہیں **تذکیر و تانیث کی غلطی (دھول آتے ہیں)** اور **قافیے کی مجبوری کے لیے غیر فطری تراکیب (حصول آنا، کُول، رُول)** ایسے عیوب ہیں جن سے نئے لکھنے والوں کو بچنا چاہیے تاکہ کلام مستند اور فصیح کہلا سکے۔
امید ہے ان حوالوں سے آپ کی تشفی ہوئی ہوگی۔ سیکھنے کا یہ عمل اور سوال اٹھانے کی یہ جستجو ہی انسان کو فن کی بلندیوں تک لے جاتی ہے!
بہت بہت شکریہ

0
زیادہ تر نکات پر آپ مجھ سے متفق ہیں مگر پھر بھی آپ نے انھیں نا درست سمجھتے ہوئے، استعمال کیا ہے تو میں یہی نتیجہ نکال سکتا ہوں کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ یہ باتیں شعر میں ہوسکتی ہیں مگر پھر وہ شعر فصیح نہیں رہے گا - گویا چلے گا-
مجھے اس سے آپ کے اسلوبِ سُخن سمجھے میں آسانی ہوئی - بہت شکریہ -