وہ جس طرف بھی سجا کر عقول آتے ہیں
قدم قدم پہ عقیدت کے پھول آتے ہیں
نکل پڑے ہیں جو سچائی کے سفر پہ یہاں
اُنہی کے حصے میں رَستوں کے دھول آتے ہیں
جھکا کے سر کو جو بیٹھے ہیں تیری چوکھٹ پر
دعا سے پہلے ہی اُن کو حصول آتے ہیں
عجیب دھن ہے تمہاری گلی میں آنے کی
مریضِ ہجر بھی تَن مَن جو بھول آتے ہیں
وہ ایک شخص کہ دَریا مِزاج ہے ایسا
کہ اُس کی بزم میں سب با اصول آتے ہیں
ہمیں خبر ہے کہ ساحل پہ کچھ نہیں ملتا
مگر سفینے سمندر میں کُول آتے ہیں
کلام کرتا ہے وہ اِس سلیقے سے عادل
دلوں کے زنگ مِٹانے کے رُول آتے ہیں

0
4