ہے کس کی کیا بساط بتاتی ہے نوکری
انساں کو آئینہ یوں دکھاتی ہے نوکری
جاؤ اگر جو پاس تو ہو جاتی ہے وہ دور
مثلِ سراب ہم کو لبھاتی ہے نوکری
بن تجربے کے ڈگری کسی کام کی نہیں
احساس یہ بھی ہم کو دلاتی ہے نوکری
گر واسطہ یہ کوئی سفارش نہ ساتھ ہو
تو دور سے ہی ہاتھ ملاتی ہے نوکری
اپنی خوشی سے کون یوں کرتا ہے چاکری
پر کیا کریں کہ گھر بھی چلاتی ہے نوکری
ملتی ہے جس کو نوکری وہ جانتا ہے یہ
کن مشکلوں سے ہاتھ میں آتی ہے نوکری
مل جائے نوکری تو بھی قِصّہ ہے ناتمام
کیا کیا نہ آدمی سے کراتی ہے نوکری
در پیش کوئی مسئلہ دفتر میں ہو اگر
راتوں کی نیند پھر تو اڑاتی ہے نوکری
مانے نہیں اصول جو دفتر کے آپنے
تو چٹکیوں میں ہاتھ سے جاتی ہے نوکری
عہدہ بھلے ہی جتنا بھی اونچا ملے مگر
نوکر ہی اک طرح سے بناتی ہے نوکری
ہے نوکری اہم یوں تجارت کے واسطے
بزنس کے دانو پیچ سکھاتی ہے نوکری
سالم سمجھ لو نوکری ہے ایک سنگِ میل
منزل ابھی ہے دور بتاتی ہے نوکری

0
5