| غم چھپانے کی نشانی اور ہے |
| راکھ کے نیچے روانی اور ہے |
| لوگ تو ظاہر پہ کرتے ہیں یقیں |
| باطنِ بے خانماں ہی اور ہے |
| موت کہتی ہے مسافر لوٹ جا |
| زندگی کی ضد کہ آنی اور ہے |
| عشق کی منزل الگ ہی خواب ہے |
| خواہشوں کی نوجوانی اور ہے |
| وہ جو چہرے پر رقم تحریر ہے |
| دل کے گوشوں میں معانی اور ہے |
| ہم تو ہنس کر کاٹتے ہیں شامِ غم |
| لوگ کہتے ہیں گرانی اور ہے |
| شورِ دنیا سے الگ عادلؔ سنو |
| خامشی کی نوحہ خوانی اور ہے |
معلومات