| وہ جھولیاں بھر کر دیتے ہیں، کیا جود و کرم سرکار کے ہیں |
| احسان خدائی پر سارے سلطان سخی دلدار کے ہیں |
| یہ بابِ رسالت زینہ ہے مولا سے عنایت اس در پر |
| جو دھومیں مچیں دو جگ میں عُلیٰ، یہ ڈنکے اسی دربار کے ہیں |
| گر نامے کو اپنے دھونا ہے، کہ کارِ زیاں کا رونا ہے |
| دلدار کے در پر جاتے ہیں بڑے درجے اُس مختار کے ہیں |
| جو جود و کرم کی ہے بارش ہر آن گھٹائے رحمت سے |
| سرکار سے ہے، مختار سے ہے، بڑے احساں اس دلدار کے ہیں |
| انوار سے اس مختار کے سب، جو رونق ہر سنسار میں ہے |
| کل قبر میں اُن کی شفقت سے کُل جلوے حسنِ یار کے ہیں |
| ہیں عکسِ جمالِ سرور سے یہ رونقیں ساری ہستی میں |
| ہیں خوب جو منظر دو جگ میں یہ پرتو اسی انوار کے ہیں |
| دن رات مدینے کے نوری ہر حاجت جس جا ہو پوری |
| محمود فضائل اطہر کے، جو ڈنکے اس کردار کے ہیں |
معلومات