دشمنی میں اگر دوستی گھات ہے
ایسا دشمن رقابت میں بھی ساتھ ہے
کس کو معلوم تھا تم بچھڑ جاؤ گے
کل ملے تھے ابھی کل کی تو بات ہے
اور مجھے ملنے آ جانا شاید کہ یہ
مرنے سے پہلے یہ آخری رات ہے
دل پہ دل وار کر جائے تو کیا بنے
آدمی جیت جائے تو یہ مات ہے
ایک حد تک بنائے ہیں یہ آسماں
آسمانوں کی تعداد بھی سات ہے

0
4