| دل میں اک اور محبّت بھی جگا کر دیکھو |
| خود کو کھو کر بھی کبھی خود کو ہی پا کر دیکھو |
| عشق گر عشق ہے بازار نہیں ہوتا ہے |
| دل کی قیمت نہ لگاؤ یہ لُٹا کر دیکھو |
| وہ جو نزدیک ہے باہر اسے کیا ڈھونڈنا ہے |
| اپنی آنکھوں سے ذرا پردہ ہٹا کر دیکھو |
| تُم نے مانا ہی نہیں درد کو رحمت کا سبب |
| اپنے زخموں کو ذرا پھول بنا کر دیکھو |
| اپنے قدموں میں ہی منزل تو چھپی بیٹھی ہے |
| صرف دیوارِ انا اپنی گرا کر دیکھو |
| جس کو پانے کی تمنّا تمہیں تا عمر رہی |
| ایک لمحہ اسے بے نام صدا کر دیکھو |
| تم میں اور اُس میں فقط ایک ہے پردہ حائل |
| اپنی ہستی کو ذرا اُس سے ملا کر دیکھو |
| عشق دریا ہے اترنے کا ہنر شرط نہیں |
| اپنی کشتی کو بھنور میں ہی بہا کر دیکھو |
| زندگی خود بھی محبت کا سبق دیتی ہے |
| کسی روتے ہوئے چہرے کو ہنسا کر دیکھو |
| ہر نفس اُس کا ہی پیغام لئے آتا ہے |
| دل کی خاموشی کو اک بار سنا کر دیکھو |
| طارق اُس در پہ نہ جاؤ لیے دنیا کی طلب |
| صرف اک عشق کا کاسہ لیے جا کر دیکھو |
معلومات