اِن دیوانوں مَستانوں پر جب وَحدت طاری ہوتی ہے
رَہتا نہیں کُچھ بھی اِنساں کا، بس ذاتِ باری ہوتی ہے
سَر کٹتا ہے اِس عالَم میں، جاںْ نَذرِ جاناں ہوتی ہے
جَب خاک پہ لاشہ گرتا ہے، تَب رَسمِ یاری ہوتی ہے
تسلیم و رضا کی آتش میں قسمت والے جلتے ہیں
از فیضِ اقدس پروانوں کی خاطرداری ہوتی ہے
یہ رُوح جسم کی قیدی ہے، جسے موت آزادی دیتی ہے
جس ذات نے رُوح پُھونکی تھی، رُوح اُس پہ وَاری ہوتی ہے
خلق و اَمر کے سَنگم پر کثرت بھی وَحدت ہوتی ہے
جَب قظرہ بَحر میں گرتا ہے پھر وَحدت ساری ہوتی ہے
یہ وَحدت جانِ کثرت ہے اور کثرت شانِ وَحدت ہے
ہر شَے میں ذاتِ واحد کی سَب حکمت کاری ہوتی ہے
یہ اَمر اَصل کا پَرتَو ہے جو آئینے میں دِکھتا ہے
جس آنکھ کا شیشہ صاف نہیں، جَلووں سے عاری ہوتی ہے
پیار وہ پہلا موتی ہے جو لُٹایا کَنزِ مخفی نے
پیار کی خاطر دنیا میں خدمت گاری ہوتی ہے
اِلَّا اللہ کی ضَرب ہمیشہ نَفس پہ بھاری ہوتی ہے
عارف عاشق دیوانے کو، یہ ضَرب پیاری ہوتی ہے

1
35
ماشا اللہ