| ہم چھوڑ کر انا کو سرِ دار آ گئے |
| سمجھے تھے وہ کہ بن کے طلب گار آ گئے |
| دیکھا جو ہم نے رنگ بدلتے ہوئے یہاں |
| یاد اپنے وضع دار گنہگار آ گئے |
| جن کیلئے لٹائی تھی ہم نے متاعِ دل |
| پہلے صفِ عدو میں وہی یار آ گئے |
| بجھتے ہوئے چراغوں نے یہ کھیل دیکھ کر |
| کہہ دو کہ لو تماشے پہ دیوار آ گئے |
| ہم نے تو مانگی تھی سحرِ نو کی روشنی |
| تاریکیوں کے لے کے وہ انبار آ گئے |
| رستہ بدل کے چل دیے سب چارہ گر مرے |
| جب وقتِ امتحاں سرِ بازار آ گئے |
معلومات