میری رگ رگ میں بسا ہے اور میری جان ہے
جان سے بھی بڑھ کے پیارا مجھ کو پاکستان ہے
داغِ فرقت کا مجھے احساس ہے ہر ہر گھڑی
پاک دھرتی زندگی ہے اور مری پہچان ہے
یوں تو یہ پردیس بھی اب دیس لگتا ہے مجھے
اس وطن نے ہے سنبھالا اس کا بھی احسان ہے
میں اگرچہ دور ہوں اپنے وطن سے ہاں مگر
جب پڑی اس کو ضرورت اس پہ سب قربان ہے
خوبصورت ہے جہاں دیکھا ہے سارا گھوم کر
پھر بھی اے ارضِ وطن تیری نرالی شان ہے
اے متاعِ زندگی اونچا رہے پرچم ترا
چاند تارا سبز پرچم پر ہمارا مان ہے
تا قیامت تو رہے آباد میری ہے دعا
ان لبوں پر اے وطن تیرے سبب مسکان ہے

0
1